جوبائیڈن نے ایمن الظواہری کی ہلاکت کی تصدیق کر دی
امریکی صدر نے کہا کہ واضح اور قابل یقین شواہد پر حملے کی اجازت دی اور دہشت گرد کو انجام تک پہنچا دیا۔
امریکا کے صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے شہر کابل میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری کے مارے جانے کی تصدیق کر دی۔ ایمن الظواہری کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ واضح اور قابل یقین شواہد پر حملے کی اجازت دی اور دہشت گرد کو انجام تک پہنچا دیا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رواں سال ایمن الظواہری کی موجودگی کا پتا چلا لیا تھا جو نائن الیون حملے کی منصوبہ بندی میں بھی شامل تھا۔ جوبائیڈن نے مزید کہا کہ ہر قیمت پر امریکا کا دفاع اور اپنے دشمنوں کا ہر جگہ تعاقب کریں گے۔ ایمن الظواہری نے حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اتحادیوں پر حملے کے لیے ویڈیوز جاری کیں، الظواہری کی ہلاکت سے امریکیوں کو انصاف ملا ہے۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق الظواہری کے بارے میں معلومات دینے والے کے لیے امریکا نے ڈھائی کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد یہ پہلی کارروائی ہے جو انخلا کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پر کی گئی۔ واضح رہے کہ اسامہ بن لادن کو امریکا نے پاکستان میں نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ایمن الظواہری نے القاعدہ کی کمان سنبھالی تھی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایمن الظواہری کی کابل میں موجودگی طالبان کے ساتھ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق طالبان نے دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ایمن الظواہری پر ڈرون حملہ کابل وقت کے مطابق 31 جولائی کی صبح 6 بج کر 18 منٹ پر کیا اور 2 میزائل داغے گئے۔ امریکی انتظامیہ کا ڈرون حملے سے متعلق کہنا ہے کہ ایمن الظواہری اپنے خاندان سمیت کابل کے سیف ہاؤس میں تھا۔ ایمن الظواہری کے مارے جانے کے بعد حقانی نیٹ ورک نے ان کے خاندان کے افراد کو مکان سے نکالا۔