ریاض” کیساتھ تعلقات کی بحالی کیلئے پہلا قدم اُٹھا لیا گیا ہے، یائیر لاپیڈ
سعودی عرب نے اسرائیل کے حمل و نقل کے طیاروں کو سعودیہ کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اپنی فضاوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
صیہونی حکومت کے متوقع وزیراعظم نے آج جمعہ کے دن کہا کہ اسرائیلی جہازوں کے لئے سعودی عرب کی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت، ”ریاض” کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی جانب پہلا قدم ہے۔ اسرائیل کے متوقع نئے وزیراعظم یائیر لاپیڈ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے سول ایوی ایشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ملک کی فضائی حدود کو اسرائیلی ائیر لائنز کے لیے کھولنے کا اعلان ”ریاض” کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن جمعہ کے دن سعودی عرب پہنچے ہیں۔ صیہونی حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی شرائط کو ختم کرتے ہوئے امریکی صدر کے طیارے نے مقبوضہ فلسطین سے براہ راست سعودی عرب کے لیے اڑان بھری۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے حمل و نقل کے طیاروں کو سعودیہ کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اپنی فضاوں کے استعمال کی اجازت دے دی ہے، جبکہ سعودی عرب کے سول ایوی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ ”ریاض” نے یہ فیصلہ تین براعظموں کو جوڑنے والے عالمی مرکز کے طور پر سعودی عرب کی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور بین الاقوامی فضائی مواصلات کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات مکمل کرنے کے لیے کیا ہے۔
مذکورہ فیصلے کا ایک اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ صیہونی طیاروں کو سعودی عرب کی فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ ایک نیوز ویب نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس کے بعد جو دوسرا قدم اُٹھایا گیا ہے، وہ یہ کہ اسرائیل نے جمعرات کو آبنائے تیران میں مصر کے دو جزیروں کی قانونی حیثیت سے متعلق (سعودی حمایت میں) عمومی منصوبے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اقدام ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ مذکورہ بالا معاہدہ جس پر کئی مہینوں سے خفیہ بات چیت جاری تھی، مغربی ایشیاء میں بائیڈن انتظامیہ کے لیے خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی ہوگی۔