ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کیلئے امریکا اور اسرائیل میں معاہدہ
ایران کے خلاف فوجی کارروائی ہوسکتی ہے لیکن یہ آخری آپشن ہوگا، جو بائیڈن
امریکا اور اسرائیل کے مابین ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کیلئے معاہدے پر دستخط کردیے گئے، امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی ہوسکتی ہے لیکن یہ آخری آپشن ہوگا۔
معاہدے کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے، روئٹرز کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان طویل المدتی سیکیورٹی تعلقات میں مزید وسعت کا باعث بنے گا۔
معاہدے پر دستخط کے بعد نیوز کانفرنس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کارلائے جائیں گے۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم یائر لاپیڈ کا کہنا تھا کہ جوہری ایران کو روکنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ وہ یہ جان لے کہ آزاد دنیا اس کے خلاف طاقت کا استعمال کرے گی۔
اس موقع پر صدربائیڈن نے جوہری ایران کی روک تھام کواسرائیل اورامریکا کے لیے سلامتی کا ایک اہم مفاد قرار دیا اور کہا کہ یہ باقی دنیا کی سلامتی کے بھی بہترین مفاد میں ہے۔
امریکی صدر ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد سعودی عرب روانہ ہونگے وہ اسرائیل سے براہ راست سعودی عرب جانے والے پہلے امریکی صدر ہونگے۔