24 نومبر کی صبح غزہ میں صیہونی حکومت اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت 4 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تھا۔
مگر جنگ بندی کے باوجود صیہونی فوج نے رفح اور خان یونس سے شمالی غزہ واپس جانے والے فلسطینی شہریوں پر فائرنگ کرکے 2 افراد کو شہید اور 11 کو زخمی کر دیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے بعد شمال سے جنوب جانے والے متعدد افراد واپس اپنے گھروں میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایسے ہی افراد کے ایک گروپ پر صیہونی فوجیوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی۔
زخمی اور شہید افراد کو جنوبی غزہ کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صیہونی حکومت کی جانب سے پمفلٹ کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو شمالی غزہ میں نہ جانے کا انتباہ کیا گیا ہے۔
ان پمفلٹس میں لکھا ہے کہ غزہ میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور شمالی غزہ ایک جنگی علاقہ ہے، جہاں شہریوں کو جانے سے گریز کرنا چاہیے۔
صیہونی فوج کی جانب سے شمالی اور جنوبی غزہ کو ملانے والی شاہراہ صلاح الدین کو بھی بند کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں صیہونی جارحیت کو 49 روز ہوگئے ہیں جس کے دوران 14 ہزار 800 سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جن میں 4 ہزار خواتین اور 6150 بچے بھی شامل ہیں۔
اس عرصے میں 36 ہزار سے زائد فلسطینی شہری صیہونی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران زخمی ہوئے جبکہ 7 ہزار سے زائد اب بھی گمشدہ ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
صیہونی جارحیت سے شمالی غزہ میں موجود 24 میں سے 22 جبکہ جنوبی غزہ کے 11 میں سے 3 اسپتال بند ہوچکے ہیں۔
صیہونی کارروائیوں سے غزہ کے 50 فیصد سے زائد رہائشی عمارات تباہ ہوچکی ہیں یا انہیں نقصان پہنچا ہے۔
اسی طرح 167 مساجد شہید کی جاچکی ہیں۔