غزہ میں صیہونی حکومت اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت 4 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق عارضی جنگ بندی کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے ہوا ہے جو اگلے 4 روز یعنی منگل کی صبح 7 بجے تک جاری رہے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق رفح کراسنگ سے ایندھن کے 2 اور گیس کا ایک ٹینکر غزہ میں داخل ہوگیا جبکہ غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقوں سے صیہونی فوجی طیاروں کی پروازیں بند ہو گئی ہیں جبکہ فلسطینی طیاروں کی بمباری رکنے کے بعد اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے فلسطینی خاندانوں کی واپسی جاری ہے اور جنگ بندی شروع ہوتے ہی ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس اور صیہونی حکومت کی جانب سے یرغمالیوں کو گروپ کی صورت میں رہا کیا جائے گا، 13 یرغمالیوں کا پہلا گروپ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے رہاکیا جائےگا، صیہونی حکومت بدلے میں آج 39 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر امدادی سامان کے 200 ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ہو گی اور غزہ سٹی اور شمالی غزہ پر روزانہ 6 گھنٹے صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک صیہونی طیارے پرواز نہیں کریں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحا میں غزہ جنگ بندی مانیٹر کرنے کیلئے آپریشنز روم قائم کیا گیا ہے، قطر عارضی جنگ بندی پر عملدرآمد کیلئے صیہونی فوج اور حماس سے براہ راست رابطے میں ہے اور ہر روز 10 صیہونی یرغمالیوں کی رہائی پر جنگ بندی میں مزید ایک روز کی توسیع کا بھی امکان ہے۔
صیہونی حکومت اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق حماس کی جانب سے 50 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے صیہونی حکومت 150 خواتین اور بچوں کو رہا کرے گا۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری صیہونی بمباری میں اب تک 14 ہزار 850 سے زائد فلسیطنی شہید اور 7ہزار فلسطینی لاپتہ ہیں جبکہ 36 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کہتے ہیں غزہ میں اب تک 335 صیہونی فوجی گاڑیاں تباہ کیں اور صرف 72 گھنٹوں میں صیہونی فوج کی مزید 33 گاڑیاں تباہ کیں۔