مرکزی ترجمان مسلم لیگ ن اور سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ساری اپوزیشن پر کیسز بنا کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ، چور چور کا شور مچا کر بیانیہ بنایا گیا، اب جو فیصلے آ رہے ہیں ان سے ثابت ہو گیا ہے کہ ایک چور کون تھا ۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ 2013 سے 2017 تک کی بھی آئی تھی، تب یہ 140 سے 117 پر انڈیکس پہنچ گیا تھا ۔ تب لوڈشیڈنگ ختم کی گئی، ایل این جی آئی، موٹر ویز بنیں، اسپتال، اسکول بنے۔ ان سب کے باوجود گورننس اچھی رہی کیونکہ وزیراعظم سچا اور امین تھا ۔
یہی بیوروکریٹ، یہی نظام تھا، مقامی اور بین الاقوامی سطح پر خریداری کے معاہدے ہوئے لیکن ایک ایک پیسہ امانت سمجھ کر خرچ کیا گیا ۔ اس کے بعد 2018 سے 2022 کی ایک رپورٹ آئی، وہی نظام تھا لیکن کرپشن انڈیکس پھر 140 تک گر جاتا ہے ۔
اس دور میں کوئی منصوبہ نہیں بنا مگر گوگی پنکی کوریڈور ضرور بنا۔ عثمان بزدار جیسوں کو اقتدار میں بٹھایا گیا جس نے کرپشن کا بازار گرم کر دیا ۔ 25 ہزار ارب کا قرض لیا گیا لیکن سب کہاں گیا ؟۔ اتنا قرضہ لیا لیکن دوسروں کو چور کہتے رہے حالانکہ چور خود تھے ۔
نواز شریف پر پاناما کا کیس بنایا لیکن سزا بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر دی ۔ انہوں نے اپنی پوری سیاست اور بیانیہ دوسروں کو چور چور کہنے پر بنایا۔ شہباز شریف کی 16 ماہ کی حکومت میں دوبارہ ترقیاتی منصوبے لگنا شروع ہوئے۔
اوئے توئے کرتے ہیں ، کیونکہ چور ہمیشہ شور مچاتا ہے ۔ کیا انہیں 25 ہزار ارب معاف کر دیا جائے ؟۔ انہوں نے سائفر کو سیاسی بیانیہ بنا لیا کیونکہ انہیں پتا تھا کہ چوری پکڑی جانی ہے ۔