اتحادی حکومت میں اختلافات، 3 صوبوں میں گورنر کے آئینی عہدے تاحال خالی

پنجاب کے علاوہ کسی صوبے میں گورنر تعینات نہ ہوسکے

0 200

اتحادی جماعتوں میں اختلافات کے باعث سندھ، بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں گورنر تعینات نہیں ہوسکے۔

اتحادی حکومت میں اختلافات اعلیٰ آئینی عہدوں پر تعیناتیوں کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں، اور اسی وجہ سے ابھی تک سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گورنرز تعینات نہیں کیے جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کے علاوہ خیبرپختون خوا، بلوچستان اور سندھ میں حکومتی اتحادی جماعتیں اپنا اپنا گورنر لگوانا چاہتی ہیں اور معاملات ابھی تک حل نہیں ہوسکے، جس کے باعث ان تینوں صوبوں میں اسپیکرز ہی قائم مقام گورنرز ہیں۔

خیبرپختون خوا میں حکومتی اتحادی جماعت اے این پی گورنر کے مطالبے سے دستبردار ہوچکی ہے، تاہم گورنر خیبر پختونخوا کيلئے مسلم لیگ ن ، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پیپلز پارٹی میں رسہ کشی چل رہی ہے۔

مسلم لیگ ن خیبرپختون خوا میں اقبال ظفر جھگڑا کو گورنر بنانا چاہتی ہے، جب کہ جے یو آئی ف اور پیپلز پارٹی اپنا اپنا امیدوار لانے کی خواہشمند ہیں۔

سندھ کے گورنر کے لئے حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان سے نام مانگے گئے تھے، اور ایم کیو ایم کی جانب سے وسیم اختر، عامر خان، عامر چشتی، اور نسرین جلیل کے نام دیئے گئے تھے۔

حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کی نسرین جلیل کو گورنر سندھ کے طور پر نامزد کردیا گیا تھا اور 8 مئی کو صدر پاکستان عارف علوی کو سمری بھی بھیج دی گئی تھی، تاہم صدر مملکت نے تاحال اس سمری پر دستخط نہیں کئے، اور صوبہ سندھ بھی ابھی تک گورنر کا منتظر ہے۔

اسپیکر آغا سراج درانی قائم مقام گورنر سندھ کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جب کہ ایم کیو ایم اپنے ساتھ کئے گئے وعدوں کے پورا ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھالے گی۔

بلوچستان میں بھی اتحادی جماعتوں کے اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے گورنر کی تعیناتی نہیں ہوسکی، صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی اور بی این پی مینگل میں اس حوالے سے تنازعہ پایا جاتا ہے۔

بی این پی نے گورنر بلوچستان کے لئے ولی خان کاکڑ کا نام پیش کیا ہے، تاہم ابھی تک اس پر اتفاق نہیں ہوسکا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.