انونی ٹیم نے تفصیلی مشاورت مکمل کر لی،نواز شریف کی وطن واپسی سے 2 روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی جائے گی۔
قانونی ٹیم کو لاہور ہائیکورٹ سے 3 سے 7 روز کی حفاظتی ضمانت ملنے کا یقین ہے۔ حفاظتی ضمانت کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے نواز شریف کو ایئرپورٹ پر گرفتار نہیں کر سکیں گے۔
نواز شریف کو وطن واپسی اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے شہباز شریف اور اسحاق ڈار نے اہم مشاورت فراہم کی۔ لیگی قیادت کی چند اہم میٹنگز میں مریم نواز نے بھی شرکت کی۔
میٹنگز میں اتفاق کیا گیا کہ ن لیگ کا بیانہ مزاحمت نہیں مفاہمت ہوگا۔ پارٹی مستقبل میں معاشی ایجنڈے پر فوکس کرے گی، مسلم لیگ (ن) کی پہلی ترجیح پاکستان کو معاشی گرداب سے نکالنا ہوگا۔
میٹنگز میں اس بات پر بھی اتفاق پایا گیا کہ ملک کے موجودہ حالات انتقامی سیاست کا نتیجہ ہیں ، پاکستان کے بڑے مسائل کے حل کیلئے ملکر چلنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
نواز شریف وطن واپسی پر جلسہ کے بعد اسلام آباد کی عدالت میں سرنڈر کر ینگے، امکان ہے کہ متعلقہ ٹرائل کورٹ میں سرنڈر کرنے کے بعد عدالت نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کا فیصلہ معطل کر دے گی،حفاظتی ضمانت لینے پر نواز شریف کو وطن واپسی پر فوری طور پر جیل بھی نہیں جانا پڑے گا۔