حکومت کی چین، سعودی عرب سے 11 ارب ڈالر فنڈنگ حاصل کرنے پر نظریں مرکوز

0 132

پاکستان چین اور سعودی عرب سے دوطرفہ تعاون میں تقریباً 11 ارب ڈالر حاصل کرنے کا خواہاں ہے، اور نگران حکومت نے ٹیکس نیٹ کو مؤثر طریقے سے ریٹیل، زراعت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں تک بڑھانے پر زور دیا ہے جبکہ بیرونی اور ملکی وسائل کا خلا پُر کرنے کے لیے غیر قانونی کرنسی کی نقل و حرکت کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، تاکہ آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر رہے اور اقتدار منتخب حکومت کو منتقلی تک معاشی استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق یہ اسلام آباد میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کے اجلاس میں نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے جاری کردہ تفصیلی پالیسی بیان کا حصہ ہے۔

ڈاکٹر شمشاد اختر نے آئی ایم ایف کے مطالبے کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو جزوی طور پر صوبوں کو منتقل کرنے کے بارے میں بھی بات چیت کی، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ برآمد کنندگان معاشی چیلنجز کے باوجود سبسڈی کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور انہوں نے اس طرح کے مفت سہولیات کے امکان کو سختی سے مسترد کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت معاشی بحالی کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جو کچھ دنوں میں نگران وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کے پاس اسٹرکچرل اصلاحات کے لیے محدود اختیارات ہیں، لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی قسط فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کا وعدہ کیا، اس حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اکتوبر کے آخر میں شروع ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے فنڈ حاصل کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.