مہنگائی کی سالانہ شرح میں 28.05 فیصد تک اضافہ
سب سے زیادہ اضافہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں ریکارڈ کیا گیا
پاکستان میں مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں پچھلے ہفتے کی نسبت 1.01 فیصد جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 28.05 فیصد اضافہ ہوگیا۔
وفاقی ادارہ شماریات نے 23 جون کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کردیئے، جس کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 1.01 فیصد بڑھ گئی ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں پچھلے سال کے مقابلے میں 28.05 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 51 بنیادی اشیائے صرف میں سے 32 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ صرف 4 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 15 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
گزشتہ ہفتے کے دوران جن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ان میں پیاز، ٹوائلٹ صابن، مونگ دال دھلی ہوئی، گھی، کوکنگ آئل، ماش دال، سگریٹ، انڈے، مسور کی دال، آلو، آٹا، کسی بھی اوسط درجے کے ہوٹل میں دال اور بیف سالن، چائے، تازہ دودھ، بریڈ، باسمتی چاول، دہی، ایل پی جی، لہسن، چینی اور پاؤڈر ملک شامل ہیں۔
ایف بی ایس کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران جن 4 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ان میں ٹماٹر، چکن، کیلے اور سرسوں کا تیل شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 16 جون کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 3.38 فیصد زائد رہی تھی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 27.82 فیصد زائد ریکارڈ کی گئی اور 10 جون کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 2.67 اضافہ ہوا تھا جبکہ سالانہ بنیادوں پر 23.89 فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کا مطلب ہے کہ مہنگائی کی شرح میں جون کے پہلے دو ہفتوں میں پچھلے ہفتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا۔
وفاقی ادارہ شماریات ملک بھر کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو جمع کرکے اس کے مطابق مہنگائی کے حوالے سے نتائج اخذ کرتا ہے۔