نیپرا نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ( این ٹی ڈی سی) کی جانب سے جمع کرائے گئے سرمایہ کاری پلان بارے کہا کہ اس میں ان علاقوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
جہاں پاور سپلائی میں زیادہ مشکلات ہیں اور جو اندھیروں کا شکار ہیں، پاور ریگولیٹر نے نشاندہی کی کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں بجلی کی سپلائی میں مشکلات ہیں۔
سرمایہ کاری پلان میں ملک کے جنوبی علاقوں کو شامل کرنا چاہیے تھا، موثر پلان کی تشکیل کیلیے صوبائی حکومتوں سے معاونت لی جانی بھی ضروری ہے۔
این ٹی ڈی سی نیپرا میں مالی سال 2023 تا 2025 کیلیے اپنا سرمایہ کاری پلان جمع کراچکا ہے، سرمایہ کاری پلان کے مطابق این ٹی ڈی سی پنجاب میں 178 ارب روپے کی لاگت 46 منصوبے لگائے گا، جو کہ مجموعی پلان کا 35 فیصد بنتے ہیں۔
سندھ میں 43 ارب روپے کے 15 منصوبے لگائے جائیں گے، جو کہ 9 فیصد بنتے ہیں، کے پی کے میں 224 ارب روپے کی لاگت سے 18 منصوبے لگائے جائیں گے، جو کہ 44 فیصد بنتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں 12 ارب روپے کی لاگت سے 8 منصوبے لگائے جائیں گے، جو کہ محض 2 فیصد بنتے ہیں۔
نیپرا نے بلوچستان جہاں بجلی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور جس کے کثیر حصے کو بجلی فراہم نہیں کی جارہی کیلیے محض 2 فیصد رقم مختص کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تمام حصوں میں بجلی فراہم کرنا ایک ذمہ داری ہے۔
اس مقصد کے حصول کیلیے بلوچستان کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جہاں بجلی کے مسائل سب سے زیادہ ہیں، این ٹی ڈی سی نے اپنے جواب میں نیپرا کو بلوچستان میں سرمایہ کاری میں درپیش مشکلات، حکومت سے کوآرڈینیشن وغیرہ کے متعلق بتایا۔