وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرض 2400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اب تک 36 آئی پی پیز سے مذاکرات ہوچکے، اس سے 3696 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ نیپرا ایکٹ میں بہتری کی ضرورت ہے، حکومت اب بجلی خریداری کے لیے اکیلا ادارہ نہیں رہے گا، بجلی کی خریداری اور فروخت میں نجی شعبے کو لا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی ترسیل کے مسائل ہیں، یہ مسائل حل کر کے بجلی مزید 2 روپے سستی ہوسکتی ہے، گردشی قرض میں 339 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیز کے نقصانات کم کر کے 145 ارب روپے کی بہتری لائے ہیں۔
وزیر توانائی نے کہا کہ سی پیک پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، سی پیک پاور پلانٹس کے ساتھ ڈیٹ ری پروپائلنگ کر رہے ہیں، ٹرانسمیشن میں مسائل کی وجہ سے بجلی فی یونٹ ایک سے دو روپے مہنگی مل رہی ہے۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ درآمدی کوئلے کے پلانٹس مقامی کوئلے پر منتقل کرینگے، یہ فیصلہ انرجی سکیورٹی کو مد نظر رکھ کر کر رہے ہیں، جون تک یہ سٹڈی مکمل ہو جائے گی، اس فیصلے کے بعد فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ لغاری حکومتی پاور پلانٹ جام شورو سمیت تین مزید پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرینگے، ملک بھر کے تمام بجلی میٹرز کو آٹومیٹک پر منتقل کرینگے، اس فیصلے کو حتمی شکل جون میں دینگے۔