بچوں کی قاتل رژیم

مشرقی بیت المقدس، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے بچوں کے خلاف 2 ہزار 934 شدت پسندانہ اقدامات کا مشاہدہ کیا گیا ہے جن میں 1208 فلسطینی بچے متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی فورسز نے مختلف قسم کے سیکورٹی الزامات کے تحت مغربی کنارے سے 638 بچوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ اسی طرح مشرقی بیت المقدس میں بھی 557 بچے گرفتار کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 85 فلسطینی بچوں کو گرفتار کرتے ہوئے ان سے بدسلوکی بھی کی گئی ہے۔ اسی طرح 75 فیصد بچوں نے مارنے پیٹنے کی شکایت بھی کی ہے۔ اینتھونیو گاتریش کی اس رپورٹ میں مقبوضہ فلسطین میں قتل ہونے والے بچوں کی تعداد بھی بیان کی گئی ہے۔

0 516

تحریر: فاطمہ محمدی

اقوام متحدہ نے حال ہی میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور ان کے قتل کے بارے میں سالانہ رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں سب کی توجہ کا مرکز بننے والی ایک اہم بات مقبوضہ فلسطین میں قتل ہونے والے بچوں کی تعداد ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینتھونیو گاتریش نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صہیونی رژیم کی جانب سے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں دیکھ کر دنگ رہ گئے ہیں اور صدمے کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فلسطینی مجاہدین پر بھی مختلف قسم کے الزامات عائد کئے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران جب یہ حقیقت کھل کر واضح ہو گئی کہ غاصب صہیونی رژیم جان بوجھ کر فلسطینی بچوں کو نشانہ بناتی ہے تو اسے "بچوں کی قاتل رژیم” کا لقب دیا گیا تھا۔

یہ حقیقت اس وقت زیادہ کھل کر سامنے آئی جب 2000ء میں صہیونی فورسز نے عالمی میڈیا کی آنکھوں کے سامنے محمد الدورہ نامی 12 سالہ فلسطینی نوجوان کو انتہائی بے دردی سے گولیوں سے چھلنی کر ڈالا۔ لیکن اس کے باوجود اقوام متحدہ صہیونی جرائم کی کھل کر مذمت کرنے سے گریز کرتی آئی ہے۔ اس سال اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے "بچے اور مسلح جھڑپیں” کے عنوان سے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کے قتل پر مبنی اقدامات پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ 45 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے ایک حصے میں بیان ہوا ہے: "بچوں کے حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں افغانستان، کانگو، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطین، صومالیہ، شام اور یمن میں مشاہدہ کی گئی ہیں۔”

رپورٹ کی روشنی میں مشرقی بیت المقدس، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے بچوں کے خلاف 2 ہزار 934 شدت پسندانہ اقدامات کا مشاہدہ کیا گیا ہے جن میں 1208 فلسطینی بچے متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی فورسز نے مختلف قسم کے سیکورٹی الزامات کے تحت مغربی کنارے سے 638 بچوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ اسی طرح مشرقی بیت المقدس میں بھی 557 بچے گرفتار کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 85 فلسطینی بچوں کو گرفتار کرتے ہوئے ان سے بدسلوکی بھی کی گئی ہے۔ اسی طرح 75 فیصد بچوں نے مارنے پیٹنے کی شکایت بھی کی ہے۔ اینتھونیو گاتریش کی اس رپورٹ میں مقبوضہ فلسطین میں قتل ہونے والے بچوں کی تعداد بھی بیان کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں اس سال کل 88 بچے قتل ہوئے ہیں جن میں 86 فلسطینی بچے اور دو اسرائیلی بچے شامل ہیں۔ قتل ہونے والے بچوں میں سے 69 کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے جبکہ 17 بچے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے رہائشی تھے۔ رپورٹ میں اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ 78 بچوں کو اسرائیل کی سکیورٹی فورسز نے قتل کیا ہے جبکہ 8 بچے فلسطینی گروہوں کے اقدامات کی وجہ سے مارے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے: "مغربی کنارے سمیت مشرقی بیت المقدس میں قتل ہونے والے تمام 17 بچے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ہیں اور انہیں جنگی گولیوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ عام طور پر ان بچوں کو عوامی مظاہروں کے دوران نشانہ بنایا گیا ہے۔” رپورٹ کے مطابق 1 ہزار 128 بچے زخمی اور معذور بھی ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں بیان ہوا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے 982 بچوں کو معذور کیا ہے جبکہ یہودی آبادکاروں نے بھی 28 بچوں کو زخمی کر کے معذور کر دیا ہے۔ جنگی آلات جیسے بارودی سرنگوں کی زد میں آ کر معذور ہونے والے بچوں کی تعداد 68 ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی بچوں کی معذوریت کی بڑی وجہ اسرائیل کے فضائی حملے ہیں۔ ان حملوں میں 539 فلسطینی بچے معذور ہوئے ہیں۔ مزید برآں، 133 فلسطینی بچے پلاسٹک کی گولیوں کا نشانہ بننے اور 153 فلسطینی بچے آنسو گیس کی زد میں آ کر زخمی ہوئے ہیں۔ اینتھونیو گاتریش اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں: "مجھے اسرائیل کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد دیکھ کر صدمہ پہنچا ہے۔”

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مزید لکھتے ہیں: "مجھے اسرائیل کی جانب سے گرفتار ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھ کر اور گرفتاری کے وقت بچوں سے بدسلوکی انجام دینے پر شدید تشویش ہے۔” اینتھونی گاتریش نے اپنی رپورٹ میں ایک طرف صہیونی مجرمانہ اقدامات کا اعتراف کیا ہے جبکہ دوسری طرف غاصب صہیونی رژیم کا دفاع بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "میں فلسطین کے مسلح گروہوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ عام اسرائیلی شہریوں پر اندھا دھند راکٹ اور مارٹر گولے برسانا بند کر دیں۔” غاصب صہیونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ حتی اس کا اپنا میڈیا بھی اس پر اعتراض کرتا دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ برس صہیونی اخبار ہارٹز نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے 67 بچوں کی تصاویر شائع کرتے ہوئے لکھا تھا "یہ صرف بچے تھے۔”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.