صیہونیوں نےغزہ کے اسپتال میں قبل ازوقت پیدا ہونیوالے متعدد بچے شہید

0 288

صیہونی فوج کا ایک اور ہولناک جنگی جرم سامنے آگیا، شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج نے کچھ ہفتے پہلے ان بچوں کے گھر والوں اور النصر اسپتال کے عملے کو اسلحے کے زور پر اسپتال سے باہر نکال دیا تھا۔

نجی ٹی وی نے بچوں کے النصر اسپتال کے ایمرجنسی روم کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں قبل از وقت پیدا ہونے والے اُن بچوں کی لاشیں پڑی دکھائی دیں جنہیں اسرائیلی فوج نے وہیں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

شمالی غزہ میں بچوں کے النصر اسپتال کو اسرائیلی فورسز نے 10 نومبر کے حملوں میں ناکارہ بنا دیا تھا، اسپتال کو ٹینکوں سے گھیر کر وہاں موجود تمام لوگوں کو آدھے گھنٹے کے اندر اسپتال خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق اسرئیلی فوج نے ڈاکٹروں کو قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو وہاں سے لے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

غزہ میں فلسطینی حکام کے مطابق 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی شہدا کی تعداد 15 ہزار سے زیادہ ہوگئی، غزہ کے شہدا میں 6 ہزار 150 بچے اور 4 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔

بدھ کو جنیوا میں ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے غزہ کی صورتحال پر بریفنگ میں کہا کہ اگر غزہ پٹی میں صحت اور صفائی کا نظام بحال نہ ہوا تو غزہ کے لوگ بم سے زیادہ بیماریوں سے مرسکتے ہیں۔

7 اکتوبر کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں جس کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر سمیت تمام تر نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے جب کہ اسپتالوں پر حملوں کی وجہ سے ایندھن سمیت دوسری طبی ضروریات کی قلت کا بدترین سامنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.