بنگلہ دیش،حکومت کیخلاف احتجاج جاری ، وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

ہزاروں مظاہرین نے شہر کے اہم مقامات پر دھرنا دے کر سڑکیں بلاک کر دیں

0 104

ڈھاکا (شوریٰ نیوز)بنگلہ دیش،حکومت کیخلاف احتجاج جاری ، وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ، ہزاروں مظاہرین نے شہر کے اہم مقامات پر دھرنا دے کر سڑکیں بلاک کر دیںتفصیلات کے مطابق بنگلا دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے حکومت کیخلاف دوسرے روز بھی احتجاج کیا جس میں ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی، مظاہرین نے وزیر اعظم شیخ حسینہ سے مستعفی ہو کر نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں حکومت کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، ہزاروں مظاہرین نے شہر کے اہم مقامات پر دھرنا دے کر سڑکیں بلاک کر دیں، دھرنے کی وجہ سے ڈھاکا کا دیگر شہروں سے رابطہ متاثر ہوا جبکہ مرکزی شاہراؤں پر شدید ٹریفک جام رہا۔احتجاج کے دوران کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کی شیلنگ سے مظاہرین کو منتشر کیا، جھڑپوں میں 6 مظاہرین اور 20 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، پولیس نے 90 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔بی این پی کی زیر قیادت ہونے والے احتجاج میں جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتیں بھی شریک ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں گزشتہ سال سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں، بنگلا دیشی اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم حسینہ واجد سے مستعفی ہونے اور نگران حکومت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سینئر رہنما عبدالمعین خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ہمارا صرف ایک مطالبہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کی بحالی ہے، یہ مطالبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جو موجودہ حکومت میں ممکن نہیں ہے۔بی این پی کے اور رہنما مرزا عباس نے کہا کہ حکومت نے ریلی کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکی، ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں نے تمام رکاوٹوں کو عبور کر لیا اور ہم یہاں ریلی کو کامیاب بنانے کیلئے آئے ہیں، ہمارے کم از کم ایک ہزار حامیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.