سرگودھا میں ’’سیدۃ النساء العالمینؑ کانفرنس‘‘ ،شیخ ناصری کا ’’اتحاد بین المومنین‘‘ کے حوالے سے فکر انگیز خطاب
شوریٰ علمائے جعفریہ پاکستان کے زیراہتمام سرگودھا میں ’’سیدۃ النساء العالمینؑ کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا ،وکیل مرجع عالی قدر آيت الله العظمٰی شیخ محمد الیعقوبی (حفظہ اللہ) وسربراہ شوری علماء جعفریہ پاکستان علامہ شيخ ہادی حسین ناصری نے ایام فاطمیہ کی اہمیت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے سیرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا پر روشنی ڈالی۔ امام بارگاہ قصرالقائم سیٹلائٹ ٹائون سرگودھا میں منعقدہ کانفرنس میں سرگودھا ، خوشاب اور چنیوٹ سے علمائے کرام ، مدرسین اور آئمہ جمعہ والجماعت نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کانفرنس کی ابتداء تلاوت کلام مجید سے کی گئی ۔
وکیل مرجع عالی قدر آيت الله العظمٰی شیخ محمد الیعقوبی (حفظہ اللہ) وسربراہ شوری علماء جعفریہ پاکستان علامہ شيخ ہادی حسین ناصری نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کا مقام بہت بلند ہے۔ آپؑ کو نہ صرف اہل بیت علیھم السلام کی اہم ترین شخصیت کے طور پر بلکہ ایک کامل اور مثالی عورت کے طور پر بھی دنیا بھر میں یاد کیا جاتا ہے حتی کہ قرآن مجید میں آپؑ کا ذکر موجود ہے، اور آپؑ کی زندگی اور کردار مسلمانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔آپؑ کی شخصیت کی عظمت اور آپؑ کی زندگی کی سچائیاں آج بھی امت مسلمہ کے لیے ایک سبق ہیں، جو ہر مسلمان عورت اور مرد کو رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
علامہ شيخ ہادی حسین ناصری نے کہا کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی شخصیت بے شمار خصوصیات کی حامل تھی آپؑ بہت زیادہ عبادت گزار، روزہ دار، اور اللہ کی طرف کامل توجہ رکھنے والی خاتون تھیں۔ آپؑ کا دل دنیا کی زرق و برق سے بے نیاز اور صرف اللہ کی رضا میں مشغول رہتا۔ آپؑ اپنے بابا اور شوہر کی طرح بہت سخی اور غریبوں کے لیے فکرمند رہتی تھیں۔ آپ کے صدقہ و خیرات کے حوالے سے کئی ایک مشہور واقعات تاریخ اسلام کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں جن میں آپ ؑ نے اپنے گھر کی قیمتی سے قیمتی چیزوں کو راہ خدا میں خیرات کر دیا ۔
علامہ شيخ ہادی حسین ناصری نے اپنے خطاب کے دوران اتحادبین المومنین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مومنین کا آپس میں اتحاد قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہےدشمن ہماری تاک میں بیٹھا ہمیں کمزور کرنے کے درپے ہے اور ہم بعض اوقات غیرارادی اور لاعلمی کے باعث اُس کے آلہ کار بن جاتے ہیں جس سے نہ صرف ہمیں اپنی ذاتی حیثیت میں بلکہ پوری قوم کو اُس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔