آئی ایم ایف معیشت کی بحالی کا حل نہیں ، شیخ ناصری
نمائندہ آیت اللہ العظمٰی شیخ محمد الیعقوبی(دام ظلہ) وسربراہ شوری علماء جعفریہ پاکستان علامہ شیخ ہادی حسین ناصری نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف معیشت کی بحالی کا حل نہیں ہے ،سیاسی جماعتیں اب جشن کی کیفیت سے باہر نکلیں اور ملکی معیشت کی بحالی کیلئے مستقل حل تلاش کریں تاکہ ملک معاشی استحکام کی پٹڑی پر چڑھ سکے پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہمیں اپنی زراعت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیےکیونکہ زراعت پاکستانی معیشت کا بنیادی ستون ہے اس وقت بھی زراعت سے متعلقہ مصنوعات کا ملکی آمدنی میں حجم 80 فیصد تک ہے۔ مزید برآں زرعی شعبہ سے ایک حد تک آبادی کا روزگار بھی وابستہ ہے-
انہوں نے کہا کہ اس وقت خطہ معاشی حوالے سے سخت ترین حالات سے گزر رہا ہے اور بہت سے ممالک ایک دوسرے کے قریب ہوتے جارہے ہیں جس کی بڑی مثال ایران اور سعودی عرب کے تعلقات ہیں ہمیں بھی اب بیلنس پالیسی اپناتے ہوئے بگاڑ کی طرف جانے کے بجائے بہتری کی جانب گامزن ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اس وقت واضح لگ رہا ہے کہ ہمارے افغانستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں جب تک ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہیں لاتے ہمسایہ ممالک کیساتھ ہم بھی عدم استحکام کی طرف جائیں گے البتہ جہاں ملکی سلامتی کو خطرہ ہو اُس صورت میں یقیناً ہم اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔ البتہ ہمیں خود سے کسی بھی تنائو کی کیفیت سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جس جذبہ کے تحت ہم نے یہ ملک بنایا تھا اب اُسی جذبہ کے تحت پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی استحکام کیلئے ہمیں ملکر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ہمیں اپنی جمہوری روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کی فلاح کیلئے کام کرنا چاہیے اُمید ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کو سوچ سمجھ کر بنایا جائیگا اور عوام کیلئے مشکلات کی بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے،غریب آدمی کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے مہنگائی کیخلاف کریک ڈاؤن کو پہلی ترجیح پر رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کی طاق راتیں شروع ہونیوالی ہیں انہی راتوں میں ہم نے لیلۃ القدر بھی تلاش کرنا ہے جو کہ مسلمانوں کے درمیان سال کی سب سے زیادہ با فضیلت رات ہے۔ قرآن و احادیث کی روشنی میں یہ رات ہزار مہینوں سے افضل اور برتر ہے۔ روایات کے مطابق اس رات قرآن حضرت محمدؐ کے قلب مطہر پر نازل ہوا۔ اس کے علاوہ یہ رات رحمتوں کے نزول، گناہوں کی مغفرت اور زمین پر ملائکہ کے نزول کی رات ہے۔ ہمیں ان راتوں میں عبادات الہیہ کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی اور استحکام اور معیشت کی بہتری کیلئے بھرپور دُعائیں کرنا ہیں تاکہ ہمارا ملک دن دُگنی رات چوگنی ترقی کر سکے۔