شوریٰ علمائے جعفریہ نے پاکستان بھر میں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت’’یومِ عفت‘‘کےطور پر منایا
شوریٰ علمائے جعفریہ نے دنیا بھر کی طرح آیت اللہ العظمی شیخ محمد الیعقوبی کے فرمان کی روشنی میں پاکستان بھر میںسیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت’’یومِ عفت‘‘کےطور پر منایا ۔شوریٰ علمائے جعفریہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پیغام پر ملک بھر میں علمائے کرام و آئمہ مساجد نے اپنی تقاریر میں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت پر روشنی ڈالی جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بھرپور کمپین چلائی گئی ۔
اس عظیم دن کے اہم موقع پر مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد الیعقوبی کے ہدیہ(شہریہ) کے دروازے بھی کھول دیئے گئے ۔حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی ولادت کے موقع پر آیت اللہ العظمٰی الشیخ محمد الیعقوبی (دام ظلہ) کے وکیل اور شوریٰ علمائے جعفریہ پاکستان کے سربراہ شیخ ہادی حسین ناصری نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی ولادت کا دن ’’یوم عفت ‘‘کے طور پر منانا ہر مسلمان کافرض بنتا ہے انہوں نے کہا کہ 5 جمادی الاول کو سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کی ولادت کے موقع پر تمام مومنین اور بالخصوص ہمارے تمام پیش نمازوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ خدا اُنہیں توفیق دے کہ وہ اپنی مساجد میں سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کا ذکر کرکے لوگوں کو سیدہ زینبؑ کے سوانح زندگی کے بارے میں آگاہ کریں بے شک سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کی زندگی طولانی تھی۔
شیخ ناصری نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی زندگی سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ایک پاکیزہ گود کی تربیت کا اثر کیا ہوتا ہے۔جس طرح مختلف حوالوں سے دنیا میں دن منائے جارہے ہیں ہمارا بھی حق ہے کہ ہم بھی اپنی ثقافت اپنا کلچر اور اپنی تہذیب کے مطابق اپنے دن معین کریں۔ انہوں نے کہا کہ 2016ء میں آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد الیعقوبی 5جمادی الاول کو عفت کا دن قرار دیا اس لیے تمام آئمہ جمعہ و الجماعت اور پیش نماز حضرات سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس دن کو خوب منائیں اور لوگوں کو بھی آگاہ کریں کہ عفت کیلئے اس سے بہتر کوئی دن نہیں ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ کی ولادت پر ہم عفت کا دن ہے۔ حتیٰ کہ امام زمانہ علیہ السلام خود خواتین کیلئے دُعا کرتے ہیں کہ :’’ وَ عَلَى النِّسَاءِ بِالْحَیَاءِ وَ الْعِفَّة‘‘اے پروردگار! خواتین کو شرم، حیا اور عفت کی توفیق عطا فرما۔
اس موقع پر علمائے کرام کا کہنا تھا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عزت اور عظمت کے لیے اتنا کافی ہے کہ آپ سلام اللہ علیہا نے ایسے پاک و طاہر گھرانے میں پرورش پائی کہ جس میں ذکرِ الہی ہمیشہ کمال کی منزل تک پہنچا ہوا تھا اور جس میں مولا علی علیہ السلام کے علم وحکمت کی سر پرستی ہوتی، جہاں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے لطف وکرم کا سایہ رہتا، جہاں جوانانِ جنت کے سرداروں کی محفل نصیب ہوتی ،ایسےعظیم گھر میں تربیت و پرورش پانے والی شخصیت کا حق یہی کہ وہ ہر کمال کے اعلی ترین مراتب پر فائز ہواور یہی وجہ ہے کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا صفاتِ کمال اور فضائل کے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھیں اور انہی فضائل و مناقب کی وجہ سے آپ کو بنی ہاشم،عالمۃ غَیرُمُعَلَّمَہ، عارفہ،موثّقہ،فاضلہ،کاملہ،عابدہ آل علی،معصومۃ صغری،نائبۃ الزہرا،نائبۃ الحسین،عقیلۃ النساء،شریکۃ الشہداء اور شریکۃ الحسین اور بہت سے دوسرے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
شوریٰ علمائے جعفریہ پاکستان کی جانب سے علماءکرام اور آئمہ جمعہ والجماعت کو کچھ اس انداز میں پیغام تحریر کیاگیا۔حمد ہے اُس ذات پاک کیلئے جس نے ہمیں ’’مودّت فی القربٰی‘‘کے زیرسایہ اپنی رحمتوں سے نوازا۔آج سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کی ولادت کا دن ہے اور اس عظیم دن کے موقع پر تمام مومنین اور آئمہ جمعہ و الجماعت کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ وہ آج کادن’’یومِ عفت‘‘ کے طور پر منائیں گے اور آگاہی مہم کے ذریعے اپنےمذہبی پروگرامز، محافل اور مجالس میںعقیلہ بنی ہاشم سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کی سوانح حیات پرروشنی ڈالیں گے۔یاد رہے ’’یوم عفت ‘‘منانے کیلئے اس سے بہتر کوئی دن نہیں ہوسکتا (جیسا کہ آیت اللہ شیخ محمد الیعقوبی کے فرمودات کی روشنی میں عراق میں منایا جارہا ہے)۔
یاد رہے کہ سیدہ زینب بنت علی ؑ کی شخصیت اور عظمت اتنی بلند و بالا ہے کہ اسے کماحقہ بیان کرنا ایسے ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کیا جائے،آپ آپ کے مقام و منزلت کا یہ عالم ہے کہکا نام وحی کے ذریعے معین ہواان کی مصیبت میں رونا امام حسن اور امام حسین (علیہما السلام) پر رونے کے برابر ہےأنّ الحسين عليه السّلام كان إذا زارته زينب عليها السّلام يقوم إجلالا لها، و كان يجلسها في مكانه۔( عوالم العلوم, جلد۱۱, صفحهجب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا ، امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے تشریف لاتی تھیں تو امام حسین علیہ السلام آپ کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے تھے اور آپ کو اپنی جگہ پر بیٹھاتے تھے۔امام سجاد علیہ السلام آپ کی شان والا صفات میں فرماتے ہیں أنتِ بِحَمدِ اللّهِ عالِمَةٌ غَيرُ مُعَلَّمَةٍ، فَهِمَةٌ غَيرُ مُفهَّمَةٍ۔(بحارالأنوار , جلد۴۵ , صفحه۱۶۲)اے زینب (سلام اللہ علیہا )! آپ بحمدالله ایسی عالمہ ہیں جس نے کسی معلم کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں کیا، اور ایسی دانا اور علم والی ہیں جس نے کسی سے نہیں سیکھا ۔