بنو قابل پروگرام، کے پی حکومت اور الخدمت میں ایم او یو سائن
تربیت یافتہ افرادی قوت میں اضافے کے لیے نگران حکومت نے اہم قدم اٹھالیا، خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور الخدمت فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط۔ کردیے گئے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب معنقد ہوئی جس میں نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
ایم او یو کے تحت خیبر پختونخوا کے تین لاکھ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل اسکلز کورسز کروائے جائیں گے، تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
ان کورسز میں مڈ لیول اور ایڈوانس لیول کورسز شامل ہوں گے، آفس آٹومیشن، آرٹی فیشل انٹیلی جنس، ویب ڈیویلپمنٹ، سائبر سیکیورٹی اور ای کامرس سمیت چودہ مختلف کورسز شامل ہیں۔ یہ کورسز الخدمت فاؤنڈیشن کے بنو قابل پروگرام کے تحت کروائے جائیں گے۔
نگران وزیر اعلی سید ارشد حسین شاہ کے پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، نوجوانوں کی ان صلاحیتوں کو موثر انداز میں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے، صوبے کی تربیت یافتہ افرادی قوت میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے۔
نوجوانوں کو مارکیٹ بیسڈ ٹریننگ دے کر انہیں بیرون ممالک روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکیں گے، تربیت یافتہ افرادی قوت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، نگران صوبائی حکومت نے اس مقصد کے لئے ہیومن ریسورس ایکسپورٹ اسٹریٹجی ترتیب دی ہے۔
ارشد حسین شاہ نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو مارکیٹ بیسڈ کورسز کروائے جائیں گے، کورسز کرنے والے نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا، نوجوانوں کو جدید اسکلز سکھانے کے لئے نجی اداروں کو حکومتی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے۔