حکومتی فیصلے سے قبل دیئے گئے درآمدی آرڈرز کا کیا ہوگا؟
حکومت نے 2 روز قبل مختلف اقسام کی اشیائے تعیش کی درآمد پر پابندی لگادی ہے تاہم اب اس حوالے سے وفاقی وزارت تجارت نے مزید وضاحت کردی ہے۔
وفاقی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 19 مئی کو جاری کردہ ایس آراو کے زریعے لگژری اشیاء کی درآمدات پر پابندی عائد کردی ہے، یہ فیصلہ بڑھتے کرنٹ اکاونٹ خسارے کے پیش نظر کیا گیا ہے تاہم تاجر برادری کی جانب سے اس ایس آر او کے اطلاق کی ضمن میں شکایات سامنے آئی ہیں جس پر ہفتہ کو وضاحت جاری کردی گئی ہے۔
وزارت تجارت کے جاری وضاحت کے مطابق مذکورہ ایس آر او کی اجراء سے قبل کے درآمدی پروسیس میں جن امپورٹس کے بل آف لیڈنگ اور ناقابل واپسی لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولے گئے ہیں ان امپورٹس پر اس ایس آر او کا اطلاق نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی جانب سے بھی جمعہ کو کہا گیا تھا کہ حکومتی فیصلے کا اطلاق پہلے کے درآمدی آرڈرز پر نہ کیا جائے تاکہ درآمد کنندگان کو نقصان سے بچایا جاسکے۔
دو روز قبل وفاقی حکومت نے ملک میں درآمد ہونے والی مختلف اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے جن میں لگژری آئٹمز، کھانے پینے کی اشیا، بڑی گاڑیاں اور موبائل فون کے علاوہ بھی چند دیگر اشیا بھی شامل ہیں۔