دفتر خارجہ نے بارڈر بندش کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ افغان حکام نے پاکستانی سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دی، جس میں انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ابوظبی کے ولی عہد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کا یہ پہلا دورہ تھا، جس میں 5 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی آیا تھا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم نے صدر الہام علیوف کی دعوت پر آزربائیجان کا دورہ کیا۔ اسی طرح وزیراعظم نے صدر شوکت میرازائیو کی دعوت پر ازبکستان کا دورہ کیا جب کہ اماراتی وزیر اعظم کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہم منصب سے ملاقات کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یو این سلامتی کونسل کے وزراتی اجلاس میں شرکت کی اور غزہ سمیت بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژئی سے بھی ملاقات کی۔ علاوہ ازیں انہوں نے نیویارک میں پاکستانی برادری سے بھی ملاقات کی۔ ترجمان کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈی جی رافائیل ماریانو گروسی نے پاکستان کا دورہ کیا۔
شفقت علی خان نے مزید بتایا کہ پاک جاپان باہمی سیاسی مشاورت کا چوتھا دور ٹوکیو میں منعقد ہوا، جہاں فریقین نے علاقائی و عالمی سطح پر دہشت گردی کے خطرات کا جائزہ لیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں بتایا کہ ہم نے بار بار افغانستان میں جدیدترین امریکی ہتھیار چھوڑنے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ یہ جدید ترین ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں جانے کا خطرہ ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر تحفظات ہیں۔ کسی بھی اہم شخصیت کو دورہ افغانستان سے قبل بریفنگ دی جاتی ہے تاکہ انہیں پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا جا سکے۔
طورخم بارڈر کی گزشتہ جمعہ سے بندش پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بارڈر بندش ایک مشکل مسئلہ ہے جس میں مختلف ایجنسیاں شامل ہوتی ہیں۔ افغان حکام پاکستان کی طرف ایک پوسٹ بنانا چاہ رہے تھے۔ ہم نے افغان حکام سے کہا کہ اس معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پر ٹرکوں کے رکنے یا سرحد بند ہونے پر متعدد ادارے کام کررہے ہوتے ہیں۔طور خم سرحد پر افغان سائیڈ ہماری سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوششیں کررہی تھی۔سرحدوں کا میکنزم موجود ہے جس میں متعدد ادارے کام کر رہے ہوتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی جدید ہتھیاروں کو دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ہتھیار پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ہم تصدیق کرتے ہیں کہ 8 پاکستانی امریکا سے جلا وطن ہو کر پاکستان پہنچے ہیں۔ ان کی شناخت کے حوالے سے ایف آئی اے اور وزارت داخلہ ہی آگاہ کر سکتی ہیں ۔ ہم امریکا سے جلا وطن ہونے والے پاکستانیوں کی واپسی میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
شفقت علی خان نے کہا کہ پاک امریکا دیرینہ تعلقات سے جڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے سفارتی سطح پر اہم تعلقات ہیں ۔ ایف 16 پروگرام بھی ان تعلقات کا دیرینہ حصہ ہے۔ امریکا کا ایف 16 پروگرام کے حوالے سے فیصلہ خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سے جلاوطن پاکستانیوں کا پہلا بیج پہنچا ہے۔ہم اس حوالے سے امریکا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم مزید غیر قانونی پاکستانیوں کی واپسی پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جو پاکستانی واپس آئیں گے ہم انہیں واپس لیں گے کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی بیانات بھارت کے کشمیر میں جرائم و بربریت کو نہیں چھپا سکتے۔
بریفنگ میں انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستانیوں پر ویزا پابندیوں سے آگاہ نہیں ہیں۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب میں مقیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی آر ٹی کو انٹرویو میں نائب وزیراعظم کا بیان بذات خود انتہائی واضح ہے۔ ہماری متعدد ممالک سے انڈر اسٹینڈنگ موجود ہے، جس میں وہ مخصوص تعداد میں افغانوں کو اپنے ممالک لے جانے کو تیار ہیں۔اگر وہ انہیں اپنے ممالک نہیں لے کر جاتے تو ان افغانوں کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے فیصلے کی روشنی میں کارروائی ہو گی۔ مختلف ممالک کے افغانوں کو اپنے ممالک لے جانے کی مختلف مختلف ڈیڈ لائنز ہیں۔