چیمپئنز ٹرافی میں اچھا پرفارم نہ کرسکے ، مانتے ہیں قوم کی توقعات پر پورا نہیں اتر ے: رضوان

0 6

پاکستان کا بنگلا دیش کے خلاف آخری گروپ میچ بارش کی نذر ہوا جس کے بعد پاکستان کے لیے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ ایک بھی جیت کے بغیر ختم ہوگیا۔

گرین شرٹس کو بھارت اور نیوزی لینڈ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پھر جمعرات کو بنگلادیش کے خلاف میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہوا۔

پاکستان کے کپتان محمد رضوان کا کہنا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں اچھا پرفارم نہ کرسکے ، مانتے ہیں کہ قوم کی توقعات پر پورا نہیں اتر ے۔ صائم اور فخر کی انجری سے کامبی نیشن خراب ہوا ، لیکن اس کو بہانہ نہیں بنائیں گے ۔

محمد رضوان نے میچ کے بعد کی پریزنٹیشن میں گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم نے حالیہ چند ہفتوں میں مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

وکٹ کیپر بیٹر نے کہا کہ انہوں نے اپنی غلطیوں کی نشاندہی کر لی ہے اور اگلے ماہ نیوزی لینڈ کے خلاف وائٹ بال سیریز سے قبل ان پر کام کریں گے۔

رضوان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے نتائج حالیہ چند ہفتوں سے مایوس کن رہے ہیں اور ہم آج اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے اچھا پرفارم کرنا چاہتے تھے کیونکہ قوم ہم سے بڑی توقعات رکھتی ہے، جن پر ہم پورا نہیں اُتر سکے۔

انہوں نے کہا کہ آپ اپنی غلطیوں سے سیکھ سکتے ہیں، اور ہم نے اس ٹورنامنٹ اور سہ فریقی سیریز میں اپنی غلطیاں دیکھی ہیں۔ ان شاء اللہ، ہم ان پر کام کریں گے۔ ہمارا اگلا دورہ نیوزی لینڈ کا ہے اور امید ہے کہ وہاں ہم بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔

محمد رضوان نے اعتراف کیا کہ نوجوان اوپنر صائم ایوب کی انجری نے ان کی تیاریوں کو متاثر کیا، لیکن انہوں نے اسے بہانے کے طور پر استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی ایسا کھلاڑی جو پچھلی دو سے تین سیریز میں بہترین کارکردگی دکھا چکا ہو اور وہ زخمی ہو جائے، تو ٹیم پر اس کا اثر پڑتا ہے، لیکن بطور لیڈر آپ کو آگے دیکھنا ہوتا ہے کیونکہ پاکستان ٹیم میں دیگر کھلاڑی بھی موجود ہیں۔ یہ کوئی بہانہ نہیں ہے، ہم اپنی غلطیوں سے سیکھیں گے۔

رضوان کا کہنا تھا کہ یہ مایوس کن ہے، ہم پوری قوم کے لیے یہاں موجود ہیں۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے اچھا پرفارم نہیں کیا۔ عوام مایوس ہیں، ہم بھی مایوس ہیں۔ ان شاء اللہ، ہم ان غلطیوں سے سیکھیں گے اور اگلے ٹورنامنٹس میں بہتری لائیں گے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.