یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرست اعلیٰ نے وزیراعظم، وفاقی وزیر برائے توانائی اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) پر زور دیا ہے کہ وہ صارفین کے لیے جلد از جلد بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان کرکے 26 روپے فی کلوواٹ تک مقرر کرے۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ یہ اقدام انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے خلاف حکومت کی کارروائی کے تناظر میں انتہائی اہم ہے، بجلی کا ٹیرف پہلے ہی 46 روپے فی کلو واٹ سے کم کر کے 34 روپے فی کلو واٹ فی گھنٹہ کر دیا گیا ہے اور صنعتی شعبوں کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے اب 26 روپے فی کلو واٹ تک مقرر کی توقع کر رہی ہے۔
سرپرست اعلیٰ یو بی جی نے نشاندہی کی کہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ 27 معاہدوں کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے اور ٹیرف پر نظرثانی کی ہے اور اس وقت ونڈ مل پراجیکٹس کے خلاف انکوائری جاری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت آئی پی پیز کو مستقبل کی ادائیگیوں میں تقریباً 1.571 ٹریلین روپے کی بچت کرے گی، جسے فوری طور پر صارفین تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو زائل کیا کہ یہ عمل سست روی کا شکار ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ ایف پی سی سی آئی کی قیادت متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور پرامید ہے کہ اگلے ماہ تک بجلی کا ٹیرف 26 روپے فی کلو واٹ تک مقرر کر دیا جائے گا۔
ایس ایم تنویر نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والے 120 کروڑ یونٹس پر 1.1 ٹریلین روپے کی کپیسٹی چارجز کے خاتمے سے ٹیرف 11.50 روپے ہو جائے گا۔
سرپرست اعلیٰ یونائیٹڈ بزنس گروپ نے کہا کہ بجلی کے بے تحاشہ نرخوں کی وجہ سے صنعت کو ایک غیر معمولی بحران کا سامنا ہے، موجودہ ٹیرف نے صنعت کاروں کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا ہے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ملوں اور صنعتوں کی بڑے پیمانے پر بندش ہو جائے گی، جس سے لاکھوں مزدور متاثر ہوں گے۔
ایس ایم تنویر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایکشن لے اور صنعتوں کے زوال کو روکنے اور ان پر منحصر لاکھوں مزدوروں کی روزی روٹی کو بچانے کے لیے ٹیرف میں کمی کا اعلان کرے۔